اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، المیادین ٹی وی نے ایک یمنی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب اپنی حمایت یافتہ فورسز سے ہر قیمت پر زمینی پیش رفت حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں بھاری جانی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
یمنی عہدیدار کے مطابق، لحج صوبے کے علاقے رأس العارہ میں العمالقہ فورسز کے 400 سے زائد اہلکار ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بعض کمانڈر بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھاری جانی نقصان کے باعث سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں میں بے چینی اور ناراضی بڑھ رہی ہے۔
اس عہدیدار نے مزیدکہا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام کی ناکامیوں نے ریاض کو اپنے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے پر مجبور کیا ہے، تاکہ وہ کسی بھی طرح میدان میں پیش قدمی حاصل کریں۔ ان کے بقول، یمنی میزائلوں کی تعداد اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت نے سعودی عرب کو حیران کر دیا ہے۔
انہوں نے جنگ طویل ہونے کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے سعودی عرب سے ممکنہ انخلا کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب، انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے کہا ہے کہ صنعاء نے سعودی نظام اور ان عناصر کو جواب دیا ہے جو باب المندب آبنائے پر سعودی حمایت یافتہ فورسز کے کنٹرول کی بات کر رہے تھے۔
المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے الاسد نے دعویٰ کیا کہ یمنی مسلح افواج مغربی ساحلی علاقے پر مکمل کنٹرول سے پہلے بھی باب المندب اور بحیرۂ احمر میں اپنی عسکری کارروائیوں کے ذریعے اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔
انہوں نے تعز محاذ پر فوجی دستوں کی تعیناتی، پوزیشنیں مستحکم کرنے اور پیش قدمی جاری رکھنے کا بھی دعویٰ کیا۔
آپ کا تبصرہ